چناوی ماحول میں مشاہدات کی ایک حقیقی مگ خوفناک تصویر


🖋️----از *عرفان نعمانی*

اسمبلی انتخابات راجستھان 

٢٠٢٣ 


   

اس بار کیا چناوی ماحول ہے؟ کیا لگ رہا ہے؟ آپکے یہاں سے کون سے دعویدار کے جیتنے کے چانس ہیں؟ اچھا جناب دونوں معروف پارٹیوں کے علاوہ دیگر پارٹی میں سے بھی کسی نے مسلم امیدوار کو توجہ یا تو بالکل نہیں دی یا پھر مجبوراً ہی قسم کھانے کو دی ہے! اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟؟؟ ! تو زیادہ تر بلکہ قریب قریب جو جوابات سننے کو ملے وہ یہ تھے - - - کہ حضرت اپنے کو کیا کرنا ہے؟ اتنا ٹائم ہی نہیں! ہم اپنا کام دیکھیں یا ان فالتو کاموں میں ٹائم خراب کریں - - - کوئی جیتے کوئی ہارے مولانا ہمیں اور آپکو تو کما کے ہی کھانا ہے، تو کسی نے کہا _____

کچھ نہیں حضرت ایک وقت تھا جب فلاں پارٹی کا جھنڈا دن رات اٹھائے پھرا، گھر بار چھوڑ کر، مسلسل کئ دنوں تک بیوی بچوں اور اہل خانہ کو چھوڑ کر پردیس میں پڑا رہا، بھوک پیاس جھیلی پارٹی کو وقت دیا، اور تو اور opposition میں رہتے ہوئےجب پارٹی کو دھرنے، جلوس، ریلیاں اور نکڑ سبھائیں کرنی ہوتی تو ان سب معاملات میں ہمیشہ پیش پیش رہے یہاں تک کہ پولس کی لاٹھیاں بھی کھائئں اور جیل میں بھی گئے لیکن، اس کا صلہ کیا ملا؟ ہم نے تو دوہری مارجھیلی ہے! ایک تو پارٹی کی طرفسے دوسری خود اپنی ہی قوم جس کے لئے یہ سب قربانیاں دیں وہی آج ہمیں ____ضمیر فروش، دلال اور پتہ نہیں کیسے کیسے القابات سے نواز کر جو بچے کھچے حوصلے تھے انہیں بھی پست کر کے گھر بیٹھنے پر مجبور کر کے اغیار کی ڈانٹ ڈپٹ، انکی گالیاں، جی حضوری، چاپلوسی میں اس قدر خوش ہے کہ جو بیان سے باہر ہے ___  مندرجہ بالا تاثرات کا اظہار کرنے والوں میں.... ایسا نہیں ہے - تعلیم و education سے کورے لوگ ہیں بلکہ پڑھا لکھا طبقہ سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہے ___اور حیرت سب سے زیادہ اسی بات پر ہو رہی ہے کہ well educated ہوتے ہوئے  ایسی سوچ و فکر کے حامل وہ کیسے ہو سکتے ہیں، اور کس طرح ایسی باتیں کر سکتے ہیں؟؟؟؟ لیکن اس سے زیادہ تعجب خیز و حیرت-زدہ تو یہ بات ہے کہ وہی لوگ جو اپنے آپ کو سیاسی و سماجی طور پر دستبردار و دامن کش ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں، چناوی ماحول میں بازاروں چوپالوں اور چائے خانوں میں اس انداز میں راج نیتی پہ بائٹ دیتے نظر آتے ہیں گویا آنجناب کی اب تک کی زندگی صرف politics میں ہی گزری ہے، اور وہ کسی بھی ایک منجھے ہوئے نیتا سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں، ________ جبکہ سماجی طور پر انکا اپنا نجی کوئی فیلڈ ہوتا ہے، نہ کوئی گراؤنڈ، قوم کی فکر ہوتی ہے نہ ہی ملت کا درد بلکہ صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو مستقل کو لے کر اپنے خانگی معاملے اور بچوں کے future کو لیکر بھی وہ کسی بھی اعتبار سے ذمے داری کی کسوٹی پر کھرے اترتے دکھائی نہیں دیتے

ایسے پریشان کن و ہوش ربا ماحول میں چند سوالات جو ذہن میں ابھرتے ہیں وہ بڑے تشویشناک ہیں_________

1 *وہ لوگ خود کو سماج و معاشرے میں ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟؟؟*

 

2 *کیا وہ واقعی ملت کے تئیں ایک درد مند دل رکھتے ہیں* 


3 *یا پھر وہ قوم کو یا پھر کم از کم خود کو دھوکہ دے رہے ہیں جو کہ سماجی اخلاقی و مذہبی طور پر کسی صورت جائز نہیں*

 

4 *کیا پھر انہیں جگہ جگہ بیٹھ کر مسلم قیادت و لیڈر شپ کے کمزور ہونے کا رونا رونے کا حق ہے؟ اگر ہاں تو پھر، اس مسئلے میں وہ ابتک ایسا کون سا کردار ادا کر سکے ہیں* 

*جو سنگ میل کا کام نہیں کر سکا تو کم از کم نشان راہ منزل تو بنتا _اور اگر نہیں! تو پھر بنا سوچے سمجھے وہ لوگوں کو کیوں ورغلاتے پھرتے ہیں* __


5 *کیا وہ صحیح معنوں میں اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب نہیں رکھتے*

 

6_*کیا انکی یہ ڈبل پالسی سماج قوم و مسلم معاشرے کے لئے زہر قاتل نہیں ہے؟*

 

7- *کیا انکا یہ عمل آنے والی نسلوں کی راہوں میں کانٹے* *بچھانے کے مترادف نہیں ہے، اور کیا وہ آنے والی نسلیں انہیں کبھی معاف کر سکیں گی ؟*


8- *کیا  سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے، قائد و مسلم لیڈرس کی سوچ اور فکر کا پیمانہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ چھوٹی بڑی* *بات کو لیکر کہیں بھی اپنی بھڑاس نکالنے سے ہی کام رکھتا ہے، لیکن مذہبی طور پرمیدان عمل میں وہ ذمے داری سےبھاگتا نظر آتا ہے؟؟*

 

9- *کیا انکی یہ روش مستقبل میں قومی اور سماجی طور پر مثبت اثرات مرتب کر پائگی؟؟؟* 


10- *کیا واقعی وہ مسلم پسماندگی کے پیش نظر حقیقی طور پر ایک سنجیدہ فکر کو بنیاد بنا کر اس پر پوری محنت لگن اور ایمانداری سے کام کرنے کے لئے تیار ہیں، کہ ان سے* *امیدیں وابستہ رکھی جا سکیں، جس سے قوم سماج اور ملت کا صحیح معنوں میں کام ہو سکے، ترقی کے راستے کھل سکیں* 

*تعلیم، علاج معالجہ، روزگار، و دیگر ضروریات زندگی کے شعبے میں بے فکری کے ساتھ چین اور سکون کی سانس لی جا سکے؟؟؟؟* ____

ایسے بے شمار سوالات ہیں جو اپنے آپ میں *سلگتے مسائل* ہیں لیکن انکے جوابات تلاش کرنے کی ہمیں فرصت نہیں، اس لئے کہ *یہ تو ذمے دار لوگوں کے کام ہوتے ہیں*، *یا پھر واقعتاً جو لوگ تعمیری ذہن و بیدار فکر رکھتے ہیں اور ملت کا درد انہیں منجانب اللہ عطا ہوتا ہے ____وہ* *لوگ سوچتے ہیں، کہ موجودہ دور میں قوم کے سامنے جو چیلنجز ہیں ان سے کیسے نپٹا جا سکتا ہے؟ کیا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے؟* 

*کون کون سی تدبیریں ہیں جنہیں بروئے کار لا کر صرف اور صرف رضائے الہی کے لئے خدمت کے طور پر ہم -لوگوں کے لئے کون کون سی اور کتنی آسانیاں کہاں پیدا کر سکتے ہیں؟* میں یہ نہیں کہتا کہ قوم و ملت کے بارے میں فکر مند رہنے والے، ایثار و قربانی کا جذبہ رکھنے والے، یا پھر حساس و سنجیدہ لیڈرشپ کے حامل لوگ اب بالکل بھی نہیں ہیں ایسا ہرگز نہیں ہے _____ بلکہ ہر صوبہ شہر گاؤں قصبے میں وہ محتاط نظریہ کے حامل لوگ آج بھی موجود ہیں  *بلکہ بعض دیہات و قصبات میں تو عمر رسیدہ لوگوں میں اس قدر سیاسی شعور بیدار نظر آتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں سیاست کے کسی کوچنگ سینٹر سے کم نہیں* _لیکن وہ دوسروں کی تو چھوڑئے خود اپنی اولاد تک کو سیاست سے ایسے بھاگنے کا حکم دیتے رہے جیسے شیر سے بکری بھاگتی ہے! اگرچہ انکی تعداد کم ہی سہی لیکن ہے ضرور ____لیکن وہ بھی پریشان و عاجز ہو چکے ہیں کہ قوم ان پہ کسی بھی طور پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے! اس لئے خود کو انہوں نے دانستہ در کنار کر لیا 

جس کا نتیجہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ

 

               *تغیر اس کو کہتے ہیں کہ شاہیں ہو گئے بے پر* 

               *جو  تھے  پرواز  سے  محروم انکے پر نکل آئے*


گفتگو کھل کر ہی اگر کی جائے تو ہم میں سے ہر شخص، اپنے سماج برادری سوسائٹی، قوم و ملت کو ملت کو لیکر جس قدر لاپرواہی و بیزاری کا شکار ہے وہ ریکارڈ توڑ ہے ___جبکہ علاوہ ہمارے سب کے سب ___ اپنے لوگوں کے لئے فکر مند نظر آتے ہیں  بیدار ہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں، خود کے سماج اور سوسائٹی کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں، اور سیاسی معاملات میں تو جو انکی activities ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ___ لیکن  ہمارے یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس و خلاف نظر آتا ہے شاید ہم نے یہ قسم کھائی ہے _ کہ ہم خود نہ تو کچھ کریں گے، اور نہ سماج کے کسی فرد کو کچھ کرنے دیں گے، کیوں کہ بارہا یہ تجربات سامنے آئے اور آتے رہتے ہیں، کہ اگر اتفاق سے کسی مسلم نمائندہ کو کسی پارٹی نے ٹکٹ دیا تو اس کے مقابلے میں جو دعویدار کھڑے ہوتے ہیں ان میں غیروں سے زیادہ تعداد اپنوں کی ہوتی ہے!!!!!!  یعنی کسی کو دیکھ کر بھی ہم کچھ سیکھنے یا اسے عمل میں لا کر کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ہیں؟؟؟ اسے کیا سمجھا جائے؟؟؟ اغیار کے یہاں تو آنے والے دس بیس اور پچاس سال کی پروگرامنگ تیار ہے اور ایک ہم ہیں کہ ہمیں یہ تک پتہ نہیں آنے والے کل کی صبح اٹھ کر ہمیں  کرنا کیا ہے؟؟؟ اس پر طرفہ یہ کہ جب چناؤ ہو جاتے ہیں سرکاریں بن جاتی ہیں - تو ہم اخبار یا ٹی وی میں کبھی ماب لنچنگ، کبھی تین طلاق، کبھی حجاب تو کبھی مسلم بچیوں کی آبرو ریزی اور لو ٹریپ جیسی خبروں کو پڑھ یا دیکھ کر کف افسوس ملتے ہوئے صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتے - - - - اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی ہم کریں - - سماج و سوسائٹی میں برائیاں دیکھ کر چپ ہم رہیں، جو پڑھے لکھے ہمارے بچے ہیں انکے روزگار یا نوکری کے معاملات کو لے کر ہم کچھ کرنا نہیں چاہتے، ہر وہ ذمے داری جس سے قوم کا بھلا ہو سکتا ہے اس سے ہم جان چھڑا کر بھاگتے نظر آتے ہیں، اب آپ ہی بتاؤ - - پھر اگر ہم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے صرف وقتی طور پر چند لمحوں کے لئے سیاست و راجنیتی پر چرچہ کر کے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض منصبی ادا کر دیا ____ کیا یہ درست ہے،؟؟؟  اور ایسا کرنا کہاں تک فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے 

ہم میں سے ہر شخص اپنا محاسبہ کرتے ہوئے پہلے اپنے انسانی فریضے کو پہچانے پھر دل پر ہاتھ رکھ کر حق و انصاف کی عینک لگا کر اپنی کتاب زندگی کو پڑھے تو پتہ چلے گا، ہم لوگ جو زندگی جی رہے ہیں وہ شیخ چلی کے خواب سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے، ___ حالات کا جو تقاضا ہے وہ یہی ہے کہ ہم میں ہر شخص بس ذمے دار بن کر زندگی گزارنے کا عزم بالزم اگر کر لے تو تائید ایزدی ان شاء اللہ شامل حال ہوگی ___ آخر میں اپنے ہی ایک شعر سے بات کو ختم کرتا ہوں کہ 

                *یہ اندھیرا جو ہے یوں ہی نہیں مٹنے والا* 

               *اپنے حصے کی شمع سب کو جلانی  ہوگی* 


خدا ہم کو ملت کے تئیں بیدار ہو کر خدمت خلق کا جذبہ صادق عطا فرمائے آمین 

بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم 

               عرفان نعمانی

باسنی ناگور راجستھان 

Comments

Post a Comment